Where the world comes to study the Bible

خدا کا نجات کا منصوبہ

پہلا یوحنا:5باب11تا12آیت

اور وہ گواہی یہ ہے کہ خدا نے ہمیں ہمیشہ کی ذندگی بخشی اور یہ زندگی اس کے بیٹے میں ہے۔ جس کے ساتھ بیٹا ہے اس کے ساتھ زندگی ہےجس کے ساتھ خداکابیٹانہیںاس کے ساتھ زندگی نہیں یہ آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ خدا نے ہمیں ہمیشہ کی زندگی بخشی ہے۔ اور زندگی اس کے بیٹے یسوع مسیح میں ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہمیشہ کی زندگی کو حاصل کرنا یعنی خدا کے بیٹے کو پانا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کس طرح خدا کے بیٹے کوپاسکتاہے۔

انسان کا مسئلہ

خدا سے علٰیحدگی

اشعیاء نبی :59 باب 2 آیت

لیکن تمہاری بدہوں نے تمہارے اور تمہارے خدا کےدرمیان جدائی ڈالی خطاوں نے اس کامنہ تم سے چھپایا تاکہ وہ نہیں سنتاہے۔

رومیوں:5باب8آیت

لیکن خدا نے اپنی محبت ہم پر یوں ظاہرکی ہےکہ جبکہ ہم ہنوز گنہگارپی تھےتومسیح ہماری خاطرمواء۔

رومیوں5باب8آیت کےمطابق خدااپنےبیٹےکی موت کےذریعے اپناپیارہم پرظاہرکرتاہے۔ کیوںیسوع کوہماری خاطرمرناپڑا کیونکہ کلام مقدس تمام آدمیوں کوگنہگارٹھہراتا ہے۔ گناہ کا مطلب ہے اپنے نشان سے ہٹ جانا دور ہو جانا۔

بائبل میںلکھاہےرومیوں3باب23آیت کے مطابق اس لئےسب نے گناہ کیا اور خداکے جلال سے محروم ہیں۔ دوسرے لفظوںمیں ہمارے گناہ خداسےہمیںجداکرتےہیںجوکہ ایک مکمل کاملیت ہے اور خداضرورگناہ گارآدمی حساب لےگا۔

حبقوق:1باب13آیت

تیری آنکھیں ایسی پاک ہیں کہ تو بدی کو دیکھ نہیںسکتا توبیواقوفوںپر کیوں نظر کرتاہے۔

ہمارے کام کے پھل

بائبل مقدس ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ کوئی انسانی کام اور انسانی اخلاق یا غیرمذہبی سرگرمی خدا کی قبولیت حاصل نہیں کرسکتی اور نہ ہی کسی کو جنت میں داخل کر سکتےہیں۔غیر مذہبی،غیرانسانی تمام ایک ہی کشتی کےسوار ہیں وہ تمام خدا کے جلالسے محروم ہیں۔ فانی اور غیرفانی، مذہبی اور غیر مذہبی پر تذکرہ کرنے کے بعد رومیوں 1باب18آیت اور 3باب8آیت کے مطابق مقدس پالوس رسول کہتاہے کہ دونوں یہودی اور یونانی گنہگار ہیں کوئی راست بازنہیں۔

رومیوں:3باب9تا10آیت

کوئی راست باز نہیں ایک بھی نہیں کیا یہودی اور کیا یونانی سب کے سب گنہگار کے ماتحت ہیں۔

اسی طرح مندرجہ ذیل آیات میں لکھا گیا ہے۔

افسییوں:2باب9:8آیت

کیونکہ تم موفضل سے ایمان کے وسیلے سے نجات ملی اور یہ تمہاریطرف سے نہیں یہ خداکی بخشش ہے اور اعمال سے بھی نہیں تاکہکوئی اس پر فخرنہ کرے۔

طیطس:3باب7:5آیت

طیطس میں لکھاہے کہاس نے ہمیں نجات بخشی صداقت کے ان اعمال کے سبب سے نہیںجوہم نے خود کیے بلکہ اپنی رحمت کے مطابق نئے جنم کے غسل اورروالقدس کی تجدیدبنیں۔

رومیوں:4باب5:1آیت

پس ہم کیا کہیں کہ ابراہیم نے جو جسم کی نسبت ہے کیا پایا۔ کیونکہ اگر ابراہیم اعمال سے صادق ٹھہرایا جاتا تو اس کو فخر کی جگہ ہوتی لیکن خدا کے آگے نہیں کیونکہ نوشتہ کیا کہتا ہے کہ ابراہیم خداوند پر ایمان لایا اور یہ اس کے لئےصداقت محسوب ہوا۔ اب کام کرنے والے کی مزدوری بخشش نہیں بلکہ حق گناہ جاتا ہے۔ مگر جو شخص کام نہیں کرتا بلکہ بےدین کے صادق ٹھرانے پر ایمان لاتا ہے اس کے لئےاس کا ایمان صداقت محسوب ہوتا ہے۔ کوئی انسان اتنا نیک نہیں جتنا خدا ہے۔ خدا ایک جلال ہے اسی لئے

حبقوق:1باب13آیت میں لکھا ہے خدا کسی ایسے کے ساتھ رفاقت نہیں کرتا جو راست باز نہیں ہے۔ خدا کی قبولیت کے حصول کے لئے ہمیں خدا کی طرح نیک ہونا چاہیے۔ خدا کے سامنے اپنے آپ میں ہم برہنہ، بےبس اور امید ہیں اور کوئی نیکی ہمیں جنت میں داخل کی زندگی عطا نہیں کرے گی اور نہ ہی ہمیشہ کی زندگی عطاکرےاور پھر اس کا حل کیا ہے۔

خدا کا حل

خدا نہ صرف ایک جلال ہے بلکہ خدا محبت اور فضل اور رحم سے بھرا ہے اس نے اپنے فضل اور محبت سے ہمیں نہ امید اور حل کے بغیرنہیں چھوڑا ہے۔

رومیوں5باب8آیت

لیکن خدا نے اپنی محبت ہم پر یوں ظاہر کی ہے کہ جب ہم ہنوزگنہگارہی تھے تو مسیح ہماری خاطر مواء۔

یہ بائبل کی خوشخبری ہے اور انجیل کا پیغام یہ خدا کے اکلوتے بیٹے کے تحفے کا پیغام ہے جو انسان بنا،گناہ آلودزندگی سے پاک رہا۔ ہمارے لئے صلیب پر مصلوب ھوا اور قبر سے اتھایا گیا اس حقیقت کو سامنے لاتے ھوئے کہ وہ خدا کا بیٹا ہے اور موت پر اس نے فتح پائی۔

رومیوں:1باب4آیت

اور تقدس کی روح کی نسبت مردوں میں سے جی اٹھکرابن خدا ذوالاقتدار ثابت ھوا یعنی ھمارے خدا کے حق میں ھے۔

رومیوں:4باب25آیت

وہ ھمارے گناھوں کے واسطے حوالہ کر دیا گیا ھمارے صادق ٹھہرنے کے واسطے زندہ کیا گیا۔

2کرنتھیوں:5باب21آیت

اس نے اس کو جو گناہ سے واقف نہ تھا ھمارے بدلے گناہ ٹھہرایا تاکہ ہم اس میں خدا کی صداقت ٹھہریں۔

1 پطرس:3باب18آیت

اسلئے مسیح بھی ایک بارگناھوں کے واسطے مر گیا یعنی راست باز ناراستوں کے لئے تاکہ تم کو خدا کے پاس پہنچائے وہ جسم میں تو مارا گیا لیکن روح میں زندہ کیا گیا۔

ھم کس طرح خدا کے بیٹے کوقبول کرتے ہیں

اس کے وسیلئے سے جو یسوع مسیح نے صلیب پر ھمارے لئے کیا۔ انجیل مقدس میں لکھا ہے جو خدا کا بیٹا رکھتا ہے وہ زندگی رکھتا ھے۔ ہم اپنے ایمان کے وسیلے سے اور یہ جان کر کہ اس نے ھمارے لئے جان دی ہے اور اس کے انسان ھونے پر ایمان رکھکریسوع المسیح کو نجات دہندے کے طور پر قبول کر سکتے ہیں۔

یوحنا1باب12آیت

جتنوں نے اسے قبول کیااس نے انہیں اقتدار بخشا کہ خدا کےفرزند بنیں یعنی جوکہ اس کے نام پر ایمان لاتے ہیں۔

یوحنا3باب18:16آیت

کیونکہ خدا نے دنیا کو ایسا پیار کیا کہ اس نے اپنااکلوتا بیٹا بخشدیا تاکہ جو کوئی اس پر ایمان لائے ہلاک نہ ھو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔ کیونکہ خدا نے بیٹے کو دنیا میں اس لئے بھیجا کہ دنیا پر فتوٰی دے بلکہ اس لیے کہ اس کے وسیلے سے نجات پائے۔ جو اس پر ایمان لاتا ہے اس پر فتوٰی نہ دیا جائے گا۔ لیکن جو اس پر ایمان لاتا ہے اس پر فتوی ھوچکا کیونکہ وہ خدا کے اکلوتے بیٹے کے نام پر ایمان نہ لایا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم میں سے ہر کوئی اسی طرح خدا کے پاس آئے

ان طریقوں سے آئے

1۔ کہ گنگار کی حیثیت سے جو اپنے گناہ کو پہنچتاھو۔

2۔ اس بات کا احساس کرے کہ کوئی انسانی کام نجات نہیں بخشتا۔

3۔ ھماری نجات کےلیے صرف ایمان کے وسیلے صرف یسوع المسیح پر مکمل بھروسہ رکھے۔

اگر یسوع المسیح کواپنا نجات دہندہ قبول کرتے اور اس پر ایمان لانا چاہتے ہو تو تمہیںیسوع میں اپنے ایمان کا اظہار کرنا چاہیےعبادت کے وسیلے سے اس بات کو تسلیم کرتے ھوئے کہ تم گنہگار ہو اور اس کی معافی کو قبول کرتے ھوئے اور یسوع میں ایمان رکھتے ھوئے کہ وہ تمہارا نجات دہندہ ہے۔

اگر تم نے خدا پر بھروسہ کیا ہے تو تم اپنی نئی زندگی کے بارے میں جانو کہ کس طرح خدا کے ساتھ چلنا ہے۔ میری رائے میں مسیحیت میں پڑھنے کے لیے شروع سے ہی مطالعہ کریں یہ مرحلہ وار مطالعہ خدا کے کلام کی بنیادی سچائیوں کی طرف لے کر جائےگا مسیح اور یسوع مسیح میں ایمانکی مضبوط بنیاد قائم کرنے میں مدد دے گا۔

Related Topics: Soteriology (Salvation)